Latest News

Showing posts with label Urdu Column. Show all posts
Showing posts with label Urdu Column. Show all posts
شاعری کے شوقین ایک چھوٹے مجمع کے سامنے شریف سٹیج پر آتے ہیں
شاعری کے شوقین ایک چھوٹے مجمع کے سامنے شریف سٹیج پر آتے ہیں
اپنے گھروں اور خاندانوں سے دور ایک لاکھ سے زیادہ بنگلہ دیشی سنگا پور میں رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔
ان لوگوں نے اپنے ملک کی بجائے سنگا پور کی تعمیراتی یا بحری جہاز سازی کی صعنت میں اس لیے کام کرنا شروع کیا کہ یہاں زیادہ پیسے کما سکیں۔
لیکن جب یہ مزدور کام نہیں کر رہے ہوتے تو ان میں سے کچھ شعر لکھتے ہیں جن میں ان کی سنگا پور کی زندگی کا ذکر نمایاں ہوتا ہے۔
شاعری کے شوقین ایک چھوٹے اجتماع کے سامنے شریف سٹیج پر آتے ہیں اور جب وہ بنگالی زبان میں بولتے ہیں ان کی آواز میں جذباتیت عیاں ہوتی ہے۔
دل ہے کہ ماتم کناں ہے
اک جنگ ہے جو جاری ہے
اور اس پر میری نہ ختم ہونے والی مصیبتیں
دل کی اتھاہ گہرائی سی نکلی ہوئی چیخ تھی یا دلیری کا فریب
کہ میں لوٹ آیا اس جہنم میں
اک بار پھر خواب پورا کرنے کو
میرا سفر پھر شروع ہوتا ہے
لوگ ان شعروں کو سن کر جھوم جاتے ہیں اور اس آواز کو سنتے ہیں جو سنگا پور کے ادبی مشاغل کے لیے مخصوص مقامات پر عموماً سننے کو نہیں ملتی۔ یہ آواز دیارِغیر سے آئے ہوئے کارکن کی ہے۔
شریف کہتے ہیں کہ’اس نظم میں میں نے اپنا دل کا حال سنا دیا ہے۔ میں نے بتایا ہے کہ بطور کارکن مجھے کس طرح کی مشکلیں جھیلنی پڑتی ہیں۔‘
تعمیراتی کمپنی میں کام کرنے والے حفاظتی امور کے اس سپروائزر نے 2009 میں اپنی بیوی اور بچے کو بنگلہ دیش میں چھوڑ کر سنگا پور کی راہ لی کیونکہ وہ یہاں زیادہ رقم کما سکتے تھے۔
انھوں نے اس جگہ بھرتی کے لیے ہزاروں روپے ایک ایجنٹ کو دیے اور اب دوسرے کارکنں کے ساتھ مل کر رہتے ہیں۔ ایک مہینے میں 15 سو ڈالر کما لیتے ہیں جس میں سے کافی زیادہ رقم گھر بھیجتے ہیں۔
شریف نے شاعری اس لیے لکھنا شروع کی کہ جب وہ یہاں آئے تو ان کے زیادہ دوست نہیں تھے اور زندگی کی یکسانیت نے شاعری میں ان کی مدد کی۔

لٹل انڈیا میں فسادات کے بعد غیر ملکی ورکرز کے بارے میں تاثر اور زیادہ منفی ہوگیا تھا۔
’جب میں پہلی بار یہاں آیا تو مجھے گھٹن محسوس ہوئی۔ سوائے کام کے یہاں کرنے کو کچھ نہیں تھا۔‘ یہی وجہ تھی کہ شریف سنگاپور کے ایک ایک چھوٹے کمیونٹی سینٹر جسے ’لٹل انڈیا‘ کہا جاتا ہے میں چلے آئے۔
اے کے ایم محسن جو بنگلہ زبان کا اخبار ’بانگلر کانتھا‘ چلاتے ہیں، انھوں نے2011 میں یہ سینٹر قائم کیا تا کہ ان کے ملک کے ورکروں کو اپنی مرضی کی جگہ میسر ہو جائے۔ ہر اتوار کو جب ان کی چھٹی ہوتی ہے سارے مزدور یہاں جمع ہو جاتے ہیں، تھیٹر کی مشق کرتے ہیں اور شعر پڑھتے ہیں۔
’میرا ماننا ہے کہ اگر یہ لوگ ثقافتی مشاغل میں مصروف ہیں تو وہ محنت کی کمائی برے کاموں میں نہیں اڑائیں گے مثلاً جوئے میں یا شراب خانوں میں یا عورتوں پر۔‘
محسن نے دوسرے رضاکاروں کی طرح ایسے ہم وطنوں کی حوصلہ افزائی کی ہے جو اس مرکز میں شعر لکھنے آئے اور پھر ان شعروں کو مقابلے کے لیے جمع کرایا۔
’میں سمجھتا ہوں کہ اس سے مقامی افراد کو احساس ہوتا ہے کہ غیر ملکی ورکر صرف مزدور ہی نہیں بلکہ ان میں جذبات اور احساسات ہیں۔‘
23 برس کے سیمئل لی جو سنگا پور کی نیشنل یونیورسٹی میں ادب کے طالب علم ہیں ایسے ہی ایک عوامی مشاعرے میں شریک تھے۔
وہ کہتے ہیں ’میں نے ایسی آوازیں پہلے نہیں سنیں۔ یہ لوگ سنگا پور میں جیسے دیواروں سے لگے ہوئے ہیں۔لیکن جب ان کے تجربات کو لفظ ملتے ہیں تب آپ خود کو ان کی جگہ رکھ کر سوچ سکتے ہیں۔‘
سنگاپور کے رہنے والوں کو یہ شاعری ان ورکروں کی زندگی کی جھلک دکھا رہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یہاں مشکل کام اور ایسے کام کرتے ہیں جو دوسرے نہیں کرتے۔
ایک غیر سرکاری تنظیم سے منسلک ڈیبی فورڈائز کہتے ہیں کہ سنہ 2013 میں جب سنگا پور کے لوگوں سے باہر کے کارکنوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے یہ چار لفظ بولے: ’غریب، گندے، خطرناک اور لچر‘۔ اسی سال لٹل انڈیا میں فسادات کے بعد (جن میں غیر ملکی کارکن ہی ملوث تھے) ان ورکرز کے بارے میں تاثر اور زیادہ منفی ہوگیا۔
بہت سے کارکنوں کے لیے سب سے مشکل کام اپنے خاندانوں سے دور ہونا ہے۔
شاعری کا مقابلہ جیتے والے ذاکر حسین نے 2003 میں اپنا گھر بار، بیوی بیٹا چھوڑ کر سنگاپور کی تعمیراتی کمپنی میں ملازمت کے لیے سفر اختیار کیا۔
’جب میں کام کرتا ہوں تو انھیں یاد کرتا ہوں۔ جب میں سوتا ہوں تب بھی انھیں یاد کرتا ہوں۔‘
ذاکر حسین کے مطابق شاعری کے مقابلے کے لیے انھوں نے شعر ایک بس پر گھر واپسی کے سفر کے دوران لکھے۔

ذاکر حسین نے 2003 میں اپنا گھر بار، بیوی بیٹا چھوڑ کر سنگاپور کی تعمیراتی کمپنی میں ملازمت کے لیے سفر اختیار کیا۔
’جب میں محنت کرتا ہوں تو پھر مجھے تفریح کی ضرورت پڑتی ہے لہذٰا میں اپنی کتاب سے کچھ نظمیں پڑھتا ہوں۔ میری شاعری میرے دماغ اور میرے دل میں ہے۔‘
ذاکر بنگلہ دیش میں صحافی تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ سنگا پور اس لیے آئے کہ ان کے خاندان کے لیے مالی طور پر گزارا کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
ان کی نظموں میں بنگلہ دیش کے ان مقامات کا ذکر ہے جن کی یاد انھیں ستاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہیں جہاں وہ اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ گھنٹوں بیٹھا کرتے تھے۔
ہمارے کھلاڑی کب تک محض اپنی ذاتی کوششوں اور شوق کی بنیاد پر آگے بڑھتے رہیں گے؟ — فوٹو بشکریہ عاطف انورآفیشل فین کلب فیس بک پیج

ابھی کچھ ہی دن پہلے کھیلوں کی دنیا میں پاکستان نے بین الاقوامی طور پر ایک اور اعزاز حاصل کیا ہے۔ اس بار پاکستان کے افق پر جگمگانے والے ستاروں میں یہ اضافہ 'عاطف انور' ہیں جنہوں نے آسٹریلیا میں ہونے والی آرنلڈ کلاسک باڈی بلڈنگ چیمپئین شپ کی اوور 100 کلوگرام کیٹگری میں ٹائٹل جیتا ہے۔ انہیں باڈی بلڈنگ کی دنیا کے نامور ستارے اور معروف فلمی اداکار آرنلڈ شوارزنیگر نے یہ اعزاز پیش کیا اور ان کی قابلیت اور محنت کو سراہا۔
پاکستان میں یہ خبر نہ صرف نہایت مسّرت کے ساتھ سنی گئی، بلکہ میڈیا نے بھی اس خبر کو بہترین کوریج دی اور حوصلہ افزائی کی۔ پاکستان میں کھیلوں میں حکومتی اداروں کی عدم دلچسپی اور ناسازگار حالات کے باعث کسی ایسے مقابلے یا کھیل میں کسی پاکستانی کی اعلیٰ کارکردگی جہاں امید کا تازہ جھونکا ثابت ہوتی ہے، وہیں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے کھلاڑی کب تک محض اپنی ذاتی کوششوں اور شوق کی بنیاد پر آگے بڑھتے رہیں گے؟
دنیا بھر میں اسپورٹس کے شعبے کو کسی بھی دیگر تعلیمی و پروفیشنل شعبے کی طرح اہمیت دی جاتی ہے۔ حکومتیں نہ صرف اسپورٹس کے مختلف شعبوں کے لیے گرانٹس کا انتظام کرتی ہیں اور بہترین تربیت یافتہ افراد کی زیرِ نگرانی ٹریننگ اور کوچنگ کی بہترین سہولتیں فراہم کرتی ہیں، بلکہ اس بات کو بھی ممکن بناتی ہیں کہ دنیا بھر میں ہونے والے ایسے مقابلوں میں بہترین کھلاڑیوں کی شرکت ہو، جو نمایاں نام اور مقام بنا سکیں۔ حکومت کی زیرِ نگرانی ٹریننگ اکیڈمیوں کا قیام، تربیت دینے کے لیے کوچز اور انسٹرکٹرز کے علاوہ بین الاقوامی مقابلوں اور گیمز میں حصّہ لینے کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔
پاکستان ان خوش نصیب ممالک میں سے ایک ہے جہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ یہ سرزمین کرکٹ، ہاکی، اور اسکواش کی نامور کھلاڑیوں کے علاوہ ٹینس کے اعصام الحق، باکسنگ کے محمد حسین، فٹ بال کے کلیم اللہ، ایتھلیٹکس کی نسیم حمید، اسنوکر کے محمد آصف اور اب باڈی بلڈنگ کے عاطف انور جیسے بے شمار جگمگاتے ستاروں سے بھری ہوئی ہے۔ انِ میں سے کچھ اپنی ذاتی محنت، شوق اور لگن کے بل بوتے پر میدان میں پہنچ کر شائقین اور بین الاقوامی دنیا کی توّجہ کا مرکز بنتے ہیں، تو کئی ایسے بھی ہیں جو سہولتوں کی عدم فراہمی، وسائل کی کمیابی اور حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے سبب گمنامی کے اندھیروں میں کھو جاتے ہیں۔
ایک دور تھا جب پاکستان نہ صرف کرکٹ، ہاکی اور اسکواش بلکہ کئی دوسرے کھیلوں میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتا تھا۔ وسائل تب بھی کم تھے لیکن دیگر عوامل کھلاڑیوں کے حق میں تھے۔ پاکستان کا تاثر عالمی دنیا میں بہت بہتر تھا اور کھلاڑی اور ٹیمیں پاکستان کی سرزمین پر آنے اور کھیلنے کے لیے تیاّر ہوتے تھے، نیز پاکستانی کھلاڑیوں کو مدعو بھی کیا جاتا تھا۔
یہ ہماری بد قسمتی کہ بدلتے وقت کے ساتھ جہاں دنیا بھر میں پاکستان کا تاثر دہشت گردی کے حوالے سے متاثر ہوا، وہیں اکثر ممالک نے اپنی ٹیموں اور کھلاڑیوں کو پاکستان بھیجنے سے صاف انکار کر دیا۔ حکومتی بے حسی کے باعث نوبت یہاں تک آ پہنچی تھی کہ پاکستان پر اولمپک گیمز میں شرکت کے لیے بھی پابندی لگنے والی تھی۔
دوسری جانب پڑوسی ملک کی مثال لے لیجیے جسِ نے اسِ خطّے میں کرکٹ کے کھیل کو IPL (انڈین پریمئر لیگ) کی شکل میں ایک نیا رجحان دیا، بلکہ اسی طرز پر ہاکی اور فٹبال جیسے عالمی نوعیت کے کھیلوں کے علاوہ کبڈی جیسے مقامی کھیل کو بھی ورلڈ کبڈی لیگ کے ذریعے عالمی شہرت کا حامل بنا دیا ہے۔
گذشتہ دنوں ورلڈ کپ کے حوالے سے قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن اور پی سی بی چیئرمین کی تعیناتی کے ضمن میں جو چہ مگوئیاں ہوئیں اور افواہیں اور سچائیاں سننے میں آئیں، نیز ایک کرکٹ کھلاڑی کو ٹیم میں کھلانے یا نہ کھلانے کے فیصلے پر جو تنازعات سامنے آئے، انہوں نے ایک عام پاکستانی کے ذہن میں کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ اور اس کے زیرِ انتظام آنے والے دیگر اسپورٹس کے ذیلی بورڈز کی انتظامیہ، ان کی تعیناتی، اور پرچی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا سلیکشن نہایت متنازع معاملات بن چکے ہیں۔ ماضی میں بھی اکثر ایسی سوالات اور افواہیں جنم لیتی رہی ہیں جن کا تاحال کوئی تسلی بخش جواب سامنے نہیں آ سکا ہے۔
تعلیم، صحّت، بنیادی ضروریاتِ زندگی کی عدم فراہمی اور دیگر شعبہ جات میں تو عوام کو حکومت اور متعلّقہ اداروں کی عدم دلچسپی کا سامنا ہے ہی، اسپورٹس بھی ایک ایسا ہی شعبہ ہے جس میں حکومت کی دلچسپی محض بورڈز بنانے اور ان میں من چاہے افراد کی تعیناتی تک ہی محدود نظر آتی ہے۔ کرکٹ جیسا کھیل جسِ میں پاکستانی عوام سب سے زیادہ دلچسپی لیتی ہے، جب اس پر ہی تنازعات سامنے نظر آتے ہوں تو باقی کھیلوں کا حال کیا کہیے۔
اسپورٹس کسی بھی صحت مند معاشرے کا ایک اہم حصّہ ہوتے ہیں جو معاشرے میں مثبت رجحانات اور صحّت مند مقابلے کو پروان چڑھاتے ہیں، اسی لیے دنیا بھر میں ممالک اور قومیں اسپورٹس میں نہ صرف خاص دلچسپی لیتے ہیں، بلکہ اپنے ملک کو اس شعبے میں آگے بڑھانے کے لیے قابلِ قدر کارنامے بھی انجام دیتے ہیں، جسِ کی ایک مثال پڑوسی ملک میں شروع ہونے والے لیگ گیمز سے دی گئی۔
اسِ کے برعکس پاکستان میں اسِ ضمن میں بہت کم کام دیکھنے میں آتا ہے۔ کالج اور یونیورسٹی لیول پر طالبِ علموں کے لیے محض اسپورٹس کوٹہ ہی کافی نہیں، بلکہ ان اسپورٹس کی باقاعدہ تربیت کے لیے ایسے ٹریننگ کیمپس اور ادارے بنانے کی بھی ضرورت ہے جہاں سے نوجوان استفادہ کر سکیں۔
ہمیں اسپورٹس کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو ایک روشن خیال، پرعزم، اور مثبت معاشرے کے طور پر دنیا کے سامنے لانا ہے، جو اسپورٹس کی اہمیت سے واقف ہے اور بلا تخصیص جنس و مذہب ٹیلنٹ کو پروان چڑھاتا ہے۔
ضرورت اسِ بات کی ہے کہ ہمیں ایسے لیڈرز اور پالیسی ساز ملیں جو اسپورٹس کی اہمیت کو سمجھیں اور ہمارے نوجوانوں میں بسے ٹیلنٹ کو ابھاریں، سینچیں اور آگے بڑھائیں تاکہ آنے والے کل میں پاکستان کا نام کھیلوں کی دنیا میں بھی اسی طرح روشن ہو جسِ طرح آج سے صرف چند دہائیوں پہلے ہوا کرتا تھا۔
ورنہ اگر حکومتی سرپرستی نہ ملی، تو کئی ستارے گمنامی کی نذر ہوتے رہیں گے۔
وراثت میں اسے پانچ لاکھ 18 ہزار چارسو طلائی سکے ملے‘ یہ سکے کل اثاثہ تھے لیکن جب اسے اثاثے کا احساس ہوا تو اس وقت تک 86 ہزار چارسو سکے ضائع ہو چکے تھے اور چار لاکھ 32 ہزار باقی تھے‘ اس نے فیصلہ کیا وہ باقی سکے محفوظ رکھے گا مگر سوال یہ تھا وہ یہ سکے کہاں محفوظ رکھ سکتا ہے؟ مولوی صاحب نے مشورہ دیا آپ یہ سکے مسجد کے صحن میں دفن کر دیں‘ یہ محفوظ بھی رہیں گے‘ یہ آپ کے مرنے کے بعد بھی آپ اور آپ کی آل اولاد کے کام آئیں گے‘ بات اس کے دل کو لگی‘ اس نے مسجد کے صحن میں گڑھا کھودا اور سونے کے 43 ہزار 2 سو سکے اس گڑھے میں دبا دیے‘ وہ اس اچھی سرمایہ کاری پر خوش تھا لیکن یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی‘ وہ چند دن بعد مضطرب ہو گیا‘ محلے کی دوسری مسجدوں اور اماموں نے اسے یقین دلا دیا تم نے غلط مسجد کا انتخاب کیا‘ تمہارا سرمایہ ضائع ہو جائے گا‘ تم اس مسجد کو خیر باد کہو اور باقی سرمایہ ہمارے مدرسے‘ ہماری مسجد میں دفن کردو‘ تمہاری دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گی‘ وہ کنفیوژ ہو گیا‘ اس نے اس کنفیوژن میں ایک دن اپنی صندوقچی نکالی اور سر پیٹ لیا‘ اس کی صندوقچی واقعی خالی تھی‘ اس کے سونے کے 43ہزار دو سو سکے غائب ہو چکے تھے‘ وہ خالی صندوقچی لے کر بھاگا اور سیدھا بازار چلا گیا‘ اس نے اب باقی سرمایہ بازار کے محاجنوں کے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا‘ یہ محاجن سرمایہ لیتے تھے‘ پانچ سال اپنے پاس رکھتے تھے اور پانچ سال بعد اصل زر کے ساتھ سود کی قسطیں ادا کرنے لگتے تھے‘ یہ اچھی اور محفوظ سرمایہ کاری تھی‘ آپ پیسہ لگائیں اور پانچ سال بعد پیسہ ریٹرن کے ساتھ واپس لینا شروع کر دیں‘ اس نے اپنے 43 ہزار دو سو سکے بازار کے محاجنوں کے پاس رکھوا دیے‘ وہ روز محاجن کے پاس جاتا سارا دن اس کے پاس بیٹھا رہتا‘ سرمائے کے محفوظ ہونے کا یقین کرتا اور شام کو واپس آجاتا‘ یہ روٹین پانچ سال جاری رہی‘ وہ اب مطمئن تھا‘ پانچ سال پورے ہو ئے‘ وہ محاجن کے پاس گیا اور سرمائے کی واپسی کا مطالبہ کر دیا‘ محاجن نے افسوس سے جواب دیا’’بھائی آپ کا سرمایہ محفوظ ہے لیکن بازار مندی کا شکار ہے‘ ہم آپ کو فوری طور پر روپیہ واپس نہیں کر سکتے‘ آپ کو انتظار کرنا پڑے گا‘‘۔
اس کے دل کو دھچکا لگا‘ وہ پریشان ہوگیا لیکن مایوس نہ ہوا‘ اس نے سرمائے کی واپسی کیلئے محاجن کی دوکان کے پھیرے لگانا شروع کر دیے‘ وہ روز صبح آتا اور شام کو نا کام واپس چلا جاتا‘ یہ سلسلہ پانچ سال جاری رہا‘ محاجن کے پاس اس کے 43 ہزار دو سو سکے پڑے تھے جبکہ اس نے 43ہزار دو سو سکے محاجن کے دفتر آنے اور واپس جانے میں صرف کر دیے‘ آخر آنے جانے میں کرایہ بھی خرچ ہوتا ہے‘ انسان کو کھانا پینا بھی پڑتا ہے اور چائے سگریٹ کا خرچہ بھی ہوتا ہے‘ اس نے ایک دن بیٹھ کر حساب کیا تو پتہ چلا وہ اب تک کل دو لاکھ سولہ ہزار طلائی سکے ضائع کر چکا ہے‘ وہ کف افسوس ملنے لگا لیکن پھر اسے محسوس ہوا وہ نقصان کے باوجود ابھی دیوالیہ نہیں ہوا‘ وہ اب بھی تین لاکھ‘ دو ہزار‘ چار سو سکوں کا مالک ہے‘ یہ اگراچھی سرمایہ کاری کرے تو اس کا باقی سرمایہ بھی محفوظ ہو جائے گا اور اس کانقصان بھی پورا ہو جائے گا‘ وہ اٹھا‘ نقصان کا سیاپا بند کیا اور محفوظ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے لگا‘ وہ تلاش کرتا رہا‘ تلاش کرتارہا یہاں تک کہ اسے معلوم ہوا شہر میں نیا مال کھلا ہے‘ مال میں سرمایہ کاری کی مشینیں ملتی ہیں آپ مشین میں ایک سکہ ڈالتے ہیں اور یہ مشین دو دو‘ تین تین اورچار چار سکے بنا کر باہر نکال دیتی ہے اور یوں آپ تھوڑا سرمایہ لگا کر رئیس ہو جاتے ہیں‘ وہ مال میں چلا گیا‘ مال میں واقعی مشینیں موجود تھیں‘ اس نے ایک خوبصورت اور نازک مشین خرید لی‘ مشین پر لکھا تھا ’’آپ روزانہ صرف 24 سکے ڈال سکتے ہیں‘ آپ کو 25واں سکہ ڈالنے کیلئے اگلے دن کا انتظار کرنا ہو گا‘‘ وہ خوش ہو گیا کیونکہ یہ مشین دن میں صرف 24 سکے کھاتی تھی اور یہ سرمایہ کاری اسے سوٹ کرتی تھی‘ اس نے بسم اللہ پڑھ کر مشین میں سکہ ڈالا اور چار سکے نکلنے کا انتظار کرنے لگا‘ مشین سے چار سکے نہ نکلے‘ اس نے اگلا سکہ ڈالا وہ سکہ بھی ضائع ہو گیا‘ وہ تین دن تک مشین میں سکے ڈالتا رہا لیکن مشین سے سکے نہ نکلے‘ وہ دکاندار کے پاس چلا گیا‘ دکاندار نے شکایت سنی اور مسکراکر جواب دیا’’جناب آ پ بے صبرے نہ ہوں‘ مشین سے سکے ضرور نکلیں گے‘ میں خود یہ مشین استعمال کر رہا ہوں‘ مجھے شروع میں چھ مہینے انتظار کرنا پڑا لیکن بالآخر مشین سے سکے نکلے‘ آپ تاولے نہ ہوں‘ آپ ضرور کامیاب ہوں گے‘‘ وہ دکاندار کی بات پر یقین نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن دوسرے گاہکوں نے بھی دکاندار کی تائید کر دی‘ ان سب کا کہنا تھا ’’ مشین بالآخر کام کرتی ہے‘‘ وہ گھر واپس آ گیا اور دوبارہ مشین میں سکے ڈالنا شروع کر دیئے‘ وہ سکے ڈالتا رہا‘ سکے ڈالتا رہا لیکن مشین سے سکے نہ نکلے‘ اس نے ایک دن حساب کیا تو پتہ چلا وہ اب تک مشین میں 86 ہزار 4 سو سکے ڈال چکا ہے اور اس کی وراثت اب دو لاکھ سولہ ہزار سکے رہ گئی ہے‘ وہ سخت پریشان ہو گیااور مختلف ماہرین سے مشورے کرنے لگا‘ ماہرین نے اسے مشورہ دیا ’’تم مشین تبدیل کر لو‘ دکان میں اور بھی مشینیں موجود ہیں‘ تم ان پر ٹرائی کیوں نہیں کرتے‘‘ وہ بھاگتا ہوا دکان پر گیا اور ایک اور مشین خرید لی‘ یہ مشین جدید بھی تھی‘ ہلکی بھی اور گارنٹی یافتہ بھی۔ اس نے لمبا سانس لیا اور نئی مشین میں سکے ڈالنا شروع کر دیئے لیکن نتیجہ وہی نکلا‘ یہ مشین بھی اس کے سکے کھا گئی‘ وہ تیسری بار دکان پر گیا‘ ایک اور مشین خرید لایا‘ وہ اس مشین کے بارے میں بھی مطمئن تھا‘ وہ کیوں مطمئن نہ ہوتا‘ پورا ملک اس مشین کی تعریفیں کر رہا تھا‘ اس نے اس مشین میں بھی سکے ڈالے لیکن شاید اس کی قسمت خراب تھی‘ یہ مشین بھی اس کے سکے کھا گئی‘ وہ اب شدید مالیاتی بحران کا شکار ہو گیا‘ وہ اب دیوالیہ ہونے کے قریب تھا‘ وہ پریشان تھا‘ پریشانی کے عالم میں اسے کسی نے بتایا ’’ سرمایہ کاری کا بہترین طریقہ بہرحال مسجد کا صحن ہی تھا‘ تم اگر مسجد میں دفن خزانے کے سرہانے بیٹھے رہتے تو آج تم سے زیاد مطمئن اور امیر شخص کوئی نہ ہوتا‘‘ اس نے کف افسوس ملا اور باقی سکے لے کر دوبارہ مسجد چلا گیا‘ امام صاحب نے دل کھول کر اس کی مذمت کی لیکن پھر اسے صحن میں باقی وراثت دفن کرنے کی اجازت دے دی‘ اس نے تھیلی کے سارے سکے مسجد کے صحن میں دفن کر دیئے‘ اس بار اسے یقین تھا اس کی یہ سرمایہ کاری ضائع نہیں ہو گی لیکن یہ یقین بھی غلط ثابت ہوا‘ وہ دوبارہ اسی مخمصے کا شکار ہو گیا ’’کیا میں نے درست مسجد کا انتخاب کیا ‘‘ اس کا مخمصہ درست تھا کیونکہ اس کی مسجد کے گرد درجنوں مسجدیں تھیں اور ان تمام مسجدوں سے روزانہ زیادہ منافع کے اعلانات ہوتے تھے‘ لوگ اسے اس کی مسجد کے بارے میں شکوک و شبہات میں بھی مبتلا کرتے رہتے تھے‘ وہ پریشان تھا لیکن اس کے پاس اب کوئی آپشن نہیں تھا‘ وہ اپنا سارا سرمایہ مسجد میں دفن کر چکا تھا مگر پھر اس نے ایک دن اپنا سرمایہ چیک کرنے کا فیصلہ کیا‘ وہ صحن میں گیا‘ بھاوڑا اٹھایا‘ اپنا خزانہ نکالا‘ صندوقچی کا دروازہ کھولا اور اس کے دل کو خوفناک دھچکا لگا‘ یہ صندوقچی بھی خالی تھی‘ اس کی ساری وراثت ضائع ہو چکی تھی‘ اس نے صندوقچی باہر رکھی اور گڑھے میں چھلانگ لگا دی‘ وہ مسجد کے صحن میں دفن ہو گیا۔
وہ شخص کون تھا؟ وہ شخص کوئی اور نہیں تھا‘ وہ آپ اور میں ہیں‘ ہمیں ساٹھ سال کی عملی زندگی ملتی ہے‘ یہ ساٹھ سال ایک ایک گھنٹے پر محیط ہوتے ہیں‘ ہم اگر ہر گھنٹے کو سونے کا ایک سکہ سمجھ لیں تو ہمارے پاس روزانہ 24 سکے ہوتے ہیں‘ ہم ان 24 سکوں کو مہینے کے تیس دنوں اور ان تیس دنوں کو سال کے بارہ ماہ اور ان سالوں کو 60 سال سے ضرب دیں تو پانچ لاکھ‘ 16 ہزار چار سو سکے ہماری کل وراثت بنتے ہیں‘ یہ سکے ہمارا کل اثاثہ ہوتے ہیں‘ ہم یہ اثاثہ زندگی اور بعداز مرگ زندگی پر خرچ کرتے ہیں‘ یہ سرمایہ ہماری کل سرمایہ کاری ہوتی ہے مگر ہم بدقسمتی سے یہ سارے سکے کنفیوژن کی نذر کر دیتے ہیں‘ ہمیں زندگی کے ابتدائی دس برسوں تک وقت کی قیمت کا احساس نہیں ہوتا‘ یوں ہمارے 86 ہزار 4 سو سکے ضائع ہو جاتے ہیں‘ ہمیں جب وقت کا احساس ہوتا ہے تو ہم دینی اور دنیاوی تعلیم میں کنفیوژ ہو جاتے ہیں‘ ہم پانچ سال مدرسے اور پانچ سال کالج میں ضائع کرتے ہیں‘ ہم وہاں سے بھاگ کر جاب میں پناہ لیتے ہیں‘ ہم وہاں بھی خالی ہاتھ رہتے ہیں‘ ہم پھر سکے کھانے والی مشینیں خریدنے لگتے ہیں‘ ایک مشین فیملی ہوتی ہے‘ ہمیں لوگ بتاتے ہیں آپ مشین میں ایک سکہ ڈالو گے تو یہ مشین تین چار سکے نکالے گی‘ ہم سکے ڈالتے جاتے ہیں‘ مشین سکے کھاتی جاتی ہے مگر ریٹرن میں کچھ نہیں نکلتا‘ ہم پھر مصروفیت کی مشین لے آتے ہیں‘ ہم اپنے دن رات اپنے کام‘ اپنے مشن کو دینے لگتے ہیں‘ ہم سمجھتے ہیں ہماری مشین ایک کے بدلے تین چار سکے نکالے گی لیکن یہ مشین بھی ہمارے سکے کھا جاتی ہے‘ ہم پھر معاشرے‘ دوستوں اور نظام کی مشین لے آتے ہیں لیکن یہ مشینیں بھی ہمارے سکے کھا جاتی ہیں یہاں تک کہ ہم بے زار اور مایوس ہو کر عمر عزیز کا باقی حصہ مذہب کو دے دیتے ہیں مگر ہم وہاں بھی کنفیوژ ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین نہیں ہوتا ہم جس مذہب‘ جس فرقے اور جس امام کو مان رہے ہیں وہ ٹھیک ہے یا غلط اور یوں ہم عمر عزیز کا آخری سکہ بھی ضائع کر دیتے ہیں‘ آپ اگر کسی دن میری طرح دھوپ یا سائے میں بیٹھ کر زندگی کے بارے میں غور کریں تو آپ کو بھی یقین آجائے گا انسان کا سب سے بڑا مسئلہ کنفیوژن ہے اور یہ بیچارہ یہ مسئلہ حل کرتا کرتا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے‘ یہ اس زندگی میں کوئی ایسی مشین تلاش نہیں کر پاتا جو اس کے سکے دوگنے کر دے‘ زندگی رائیگاں ہے اور یہ رائیگاں ہی چلی جاتی ہے
By javed Chaudary 
لاہور میں فیروز پور روڈ ہے‘آپ فیروز پور روڈ پر چونگی امرسدوسے بائیں مڑیں توچند گز کے بعد عیسائی آبادی آ جاتی ہے‘ یہ آبادی یوحنا آباد کہلاتی ہے‘
christians-in-pakistan-youhanabad
یہاں لاکھ سے زائد عیسائی آباد ہیں‘ یہ پنجاب میں عیسائیوں کی سب سے بڑی بستی ہے‘ یوحنا آباد میں سات چرچ ہیں‘ اتوار کی صبح ان چرچوں میں سروس ہوتی ہے‘ حکومت نے ملک میں دہشت گردی بالخصوص 22ستمبر 2013ءکو پشاور چرچ پر حملے کے بعد یوحنا آباد کے چرچوں پر پولیس تعینات کر دی‘ اتوار 15 مارچ کی صبح کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ میں عبادت جاری تھی‘ دعا شروع ہوئی تو پولیس اہلکاروں نے ایک مشکوک شخص کو کیتھولک چرچ کے گیٹ کی طرف بڑھتے دیکھا‘ عیسائی نوجوان آکاش کو بھی وہ شخص مشکوک لگا‘ آکاش نے نوجوان کو روک لیا‘ پولیس اہلکاروں نے مشکوک نوجوان سے پوچھ گچھ شروع کر دی‘ نوجوان چرچ کے اندر داخل ہونا چاہتا تھا‘ اہلکاروں اور آکاش نے اجازت نہ دی تو اس نے خودکش جیکٹ کا لیور کھینچ دیا‘ دھماکہ ہوااور پولیس ہیڈ کانسٹیبل راشد منہاس اور آکاش حملہ آور کے ساتھ زندگی کی سرحد پار کر گئے جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے‘ یہ دھماکہ ابھی کانوں میں گونج رہا تھا کہ کیتھولک چرچ سے سوا سو میٹر کے فاصلے پر واقع کرائسٹ چرچ کے اندر بھی دھماکہ ہو گیا‘ اب ہر طرف لاشیں‘ز خمی اور دھواں تھا‘ پولیس کو اطلاع ہوئی‘ پولیس کے دستے‘ ایمبولینسز اور بم ڈسپوزل سکواڈ موقع واردات کی طرف دوڑ پڑے‘ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ تھا‘ پاکستانی شہریوں کی جان اور مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے‘ ہماری ریاست کو چرچ کے دروازے پر ہونا چاہیے تھا‘ پورا ملک‘ پورے ملک کے تمام شہر ریاست کی نظر میں ہونے چاہیے تھے‘ دہشت گرد جب بھی دہشت گردی کا منصوبہ بنائیں یہ زیادہ دیر تک اپنا منصوبہ ریاست سے پوشیدہ نہ رکھ سکیں‘ یہ جب بھی اپنی پناہ گاہ سے باہر آئیں‘ یہ ریاست سے بچ نہ سکیں‘ ملک میں کتنے لوگ رہتے ہیں‘ ہمارے ملک میں روزانہ کتنے بچے پیدا ہوتے ہیں‘ لوگ کہاں سے کہاں جا رہے ہیں‘ ملک سے باہر کون جا رہا ہے اور ملک میں واپس کون آ رہا ہے‘ کس نے کس وقت اپنا ایڈریس تبدیل کیا اور کون کتنے دنوں سے غائب ہے‘ یہ تمام معلومات ریاست کے پاس ہونی چاہئیں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا‘ ہمارے ملک میں اٹھارہ کروڑ لوگ رہتے ہیں لیکن نادرا کے پاس صرف بارہ کروڑ 76 لاکھ شہریوںکا ڈیٹا موجود ہے‘ باقی پانچ کروڑ لوگ کون ہیں اور یہ کہاں کہاں رہتے ہیں‘ ہماری ریاست نہیں جانتی‘ ہمارے ملک میں کون کب پیدا ہوا؟ یہ کہاں رہتا ہے‘ یہ کیا کرتا ہے اور یہ کہاں کہاں جا اور آ رہا ہے‘ ریاست اس سے بھی بے خبر ہے لہٰذا جی ایچ کیو پر حملہ ہو‘مہران بیس پر یلغار ہو‘ پی اے ایف کامرہ کا واقعہ ہو‘ پریڈ لین مسجد کا سانحہ ہو‘ آئی ایس آئی‘ آئی بی اور سپیشل برانچز کے دفاتر پر حملے ہوں یا پھر آرمی پبلک سکول‘ پشاور چرچ اور لاہور چرچ کے واقعات ہوں‘ ریاست کو اس وقت تک سانحے کا علم نہیں ہوتا جب تک تاحد نظر لاشیں نہیں بکھر جاتیں ‘ یہ ہے ہماری ریاست۔ ریاست کو 15 مارچ کو چرچز کے گیٹس پر ہونا چاہیے تھا لیکن یہ وہاں نہیں تھی ۔
یوحنا آباد کے چرچز پر حملوں کے بعد چار خوفناک واقعات پیش آئے‘ ان چار واقعات نے ریاست کی باقی قلعی بھی کھول دی‘ خود کش حملوں کے بعد علاقے میں مظاہرے شروع ہو گئے‘ یوحنا آباد کے شہریوں نے پولیس‘ ریسکیو ورکرز‘ بم ڈسپوزل سکواڈ اور ایمبولینسز کے راستے روک دیئے اور یوں سرکاری ادارے ریسکیو ورک نہ کر سکے‘ یہ پہلا واقعہ تھا‘ دوسرا واقعہ پولیس اہلکار تھے‘ مشتعل نوجوانوں نے تین زخمی پولیس اہلکاروں کو پکڑ لیا‘ پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا‘ یہ اہلکار جب بے حال ہو گئے تو انہیں اندر بند کر دیا گیا‘ یہ اہلکار تین گھنٹے بند رہے‘ مظاہرین نے ان کی مرہم پٹی تک کی اجازت نہ دی‘ تیسرا واقعہ‘ ہجوم نے وہاں سے دو مشکوک لوگ پکڑ لئے اور یہ انہیں ڈنڈے‘ جوتے اور ٹھڈے مارنے لگے‘ یہ لوگ جب نیم مردہ ہو گئے تو ہجوم انہیں پاﺅں اور بالوں سے پکڑ کر سڑکوں پر گھسیٹنے لگا‘ پولیس نے یہ لوگ ہجوم سے چھڑا لئے لیکن لوگ انہیں دوبارہ پولیس سے لے گئے‘ یہ انہیں فیروز پور روڈ پر لے کر آئے‘
tn_gh1
انہیں ایک دوسرے کے اوپر رکھا‘ تیل چھڑکا اور انہیں آگ لگا دی‘ یہ لوگ اس وقت تک آگ پر تیل چھڑکتے رہے جب تک یہ دونوں لوگ جل کر راکھ نہ بن گئے‘ یہ دونوں لاشیں چھ گھنٹے جلتی رہیں لیکن ریاست ان لوگوں کو بچا سکی اور نہ ہی لاشیں اٹھا سکی‘ یہ درندگی چھ گھنٹے جاری رہی‘ لوگ موبائل سے فلمیں بناتے رہے مگر ریاست آگے نے بڑھ سکی‘ مشتعل نوجوان15 اور 16 مارچ کو راہگیروں کو بھی نشانہ بناتے رہے‘ یہ عام شہریوں کی گاڑیاں بھی توڑتے رہے‘ یہ باریش لوگوں کوبھی پکڑ کر مارتے رہے‘ یہ زخمیوں کو سڑکوں پر بھی گھسیٹتے رہے اور یہ مسجدوں پر حملوں کےلئے آگے بڑھے لیکن ریاست یہ حملے بھی نہ روک سکی‘ چوتھا واقعہ‘ مظاہرین فیروز پور روڈ پر آئے اور انہوں نے میٹرو بس سٹیشنوں پر حملے شروع کر دیئے‘ سٹیشن توڑ دیئے گئے‘
article-doc-146me-6X3Olzt1v-HSK1-701_634x426
جنگلوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا‘ کمپیوٹر‘ کیمرے اور سٹیشن کے شیشے بھی توڑ دیئے گئے‘ کھمبے گرا دیئے گئے‘ کیش کاﺅنٹر لوٹ لیا گیا اور بسوں پر ڈنڈے برسائے گئے‘ ان حملوں کے بعد میٹرو بند ہو گئی چنانچہ ریاست میٹرو کی حفاظت بھی نہ کر سکی‘ قوم میٹرو سٹیشنز کے ٹوٹنے کا لائیو نظارہ کرتی رہی لیکن ریاست دبک کر بیٹھی رہی‘ یہ چار واقعات کیا ثابت کرتے ہیں؟ کیا یہ ثابت نہیں کرتے ملک میں ریاست غائب ہو چکی ہے‘ کیا یہ حقیقت نہیں ریاست کو بم دھماکوں کے بعد وہاں موجود ہونا چاہیے تھا لیکن ریاست وہاں نہیں تھی‘ ریاست کو کسی شخص کو ایمبولینس روکنے‘ بم ڈسپوزل سکواڈ اور پولیس کا راستہ بند کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی لیکن ریاست یہ بھی نہ کر سکی اور جب ریاست اور عوام آمنے سامنے ہو جائیں تو ریاست کو پاﺅں پر کھڑا نظر آنا چاہیے لیکن ہماری ریاست پسپا ہو گئی اور جب ریاست عوام کے سامنے پسپا ہو جائے تو پھر ریاست کی رٹ ختم ہو جاتی ہے اور 15 مارچ کو یہ رٹ ختم ہوئی۔
آپ کیلنڈر سامنے رکھئے‘ پندرہ مارچ کے بعد ورق الٹیے تو آپ کے سامنے سولہ مارچ آئے گا‘ہماری ریاست اگر 15 مارچ کو سامنے نہیں آئی تو اسے کم از کم سولہ مارچ کو ضرور نظر آنا چاہیے تھا‘ ریاست کو 16 مارچ کو خودکش حملہ آوروں تک ضرور پہنچنا چاہیے تھا‘ یہ کون تھے؟ یہ کہاں سے آئے؟ یہ چرچوں تک کیسے پہنچے‘ ان کے ہینڈلرز کون تھے اور لاہور میں ان کا کون کون سا ساتھی چھپا بیٹھا ہے لیکن ریاست ایسا نہ کر سکی‘ ریاست کو ان تمام لوگوں کو بھی گرفتار کرنا چاہیے تھا جنہوں نے ایمبولینس‘ بم ڈسپوزل سکواڈ اور پولیس کا راستہ روکا‘ جنہوں نے سرکاری اداروں کو کام نہیں کرنے دیا اور جو مشتعل لوگوں کو مسجدوں پر حملوں کی ترغیب دے رہے تھے‘ ریاست کو پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے اور زخمی اہلکاروں کو بند کرنے والوں کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کرنی چاہیے تھی‘ یہ لوگ بھی گرفتار ہونے چاہیے تھے‘ ریاست کو ان لوگوں کو بھی گر فتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہیے تھا جنہوں نے دو لوگوں پر تشدد کیا‘ انہیں سڑکوں پر گھسیٹا اورانہیں آگ لگا کر راکھ کر دیا‘ دنیا کا کوئی قانون کسی شخص کو اس ظلم کی اجازت نہیں دیتا‘ ریاست کو ظلم کرنے والے ان لوگوں کو بھی گرفتار کرنا چاہیے تھا اور ریاست کو میٹرو سٹیشنز پر حملے کرنے والوں‘ شیشے توڑنے والوں‘ کیش کاﺅنٹر لوٹنے والوں اور سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو بھی گرفتار کرنا چاہیے تھا لیکن آپ بدنصیبی دیکھئے ریاست سولہ مارچ کو بھی کسی جگہ نظر نہیں آئی‘ آپ ملاحظہ کیجئے‘ ریاست چودہ تاریخ کو اس وقت بھی موجود نہیں تھی جب دہشت گرد چرچ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے‘ ریاست 15 مارچ کو اس وقت بھی نہیں تھی جب متاثرہ فریق مظلومیت کی آڑ میں ظالم بن رہا تھا اور ریاست سولہ اور سترہ مارچ کو اس وقت بھی نہیں تھی جب عیسائی پاکستانی پورے ملک میں لاہور کی تاریخ دہرا رہے تھے‘ آپ کو 15 اور 16 مارچ میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔ سوال یہ ہے ”ریاست کہاں ہے“ کیا یہ صرف اس وقت موجود ہوتی ہے جب حکمرانوں کی انا کی تسکین کےلئے ماڈل ٹاﺅن میں 14 لوگوں کو گولی مارنا ہوتی ہے یا صدر صاحب کے قافلے کے راستے میں کھڑے نابینا ﺅں کو ہٹانا ہوتا ہے یا پھر حکمرانوں کی آمد ورفت کے دوران سرکار کو سیلوٹ کرنا ہوتے ہیں! ”ریاست کہاں ہے“ اور یہ ریاست 15 مارچ جیسے حالات میں کہاں چلی جاتی ہے؟ قوم کل سے اس کا جواب تلاش کر رہی ہے!۔
میری حکومت سے درخواست ہے آپ چودہ‘ پندرہ اور سولہ مارچ کو ماڈل بنائیں اور ان تین تاریخوں کو سامنے رکھ کر ملک کے نظام میں اصلاح کر لیں‘ آپ فیصلہ کریں 2015ءمیں کوئی شخص ریاست سے پوشیدہ نہیں رہے گا‘ ملک کے تمام لوگوں کو نادرا کے سسٹم میں لائیں گے‘ بچے کے شناختی کاغذات پیدائش سے پہلے بنیں گے‘ والدین پیدائش سے قبل بچے کا نام بھی رکھیں گے اور یہ بچے کو نادرا میں رجسٹر بھی کرائیں گے‘ شناختی کارڈ کے بغیر کوئی شخص سفر نہیں کر سکے گا‘ بس‘ ریل اور ہوائی جہاز کے سفر کےلئے شناختی کارڈ سکین ہوں گے‘ موٹروے اور ہائی ویز کے ٹول پلازوں پر بھی شناختی کارڈ سکین کئے جائیں گے‘ ہوٹلوں میں بھی شناختی کارڈ سکین ہوں گے‘ ملک کے تمام شہروں میں کیمرے لگائے جائیں گے‘ مسجدوں‘ امام بارگاہوں‘ سکولوں اور چرچز کے گرد ونواح میں بھی کیمرے نصب کئے جائیں گے‘ محلے کے لوگ محلے کی مسجد میں نماز ادا کریں گے تاکہ مشکوک لوگوں کی شناخت ہو سکے‘ مسجد کے گیٹ اور ہال میں فاصلہ ہو گا تا کہ مشکوک شخص کو ہال سے دور روکا جا سکے‘ حکومت یہ فیصلہ کر لے ملک کے کسی بھی حصے میں بم دھماکے کے بعد اس علاقے میں کرفیو لگا دیا جائے گا‘ وہ پورا علاقہ فوج کے حوالے کر دیا جائے گا‘ لواحقین کو کرائم سین سے دور رکھا جائے گا‘ پولیس‘ بم ڈسپوزل اور میڈیکل سٹاف کام کرے گا اور یہ لوگ جب کام ختم کر لیں تو کرفیو اٹھا لیا جائے گا‘ سرکاری اور غیر سرکاری املاک پر حملہ کرنے والوں کےلئے قانون سخت کر دیا جائے گا‘ یہ لوگ قید بھی بھگتیں گے اور نقصان بھی جرمانے کے ساتھ پورا کیا جائے گا‘ ملزم اگر یہ نقصان پورا نہ کر سکے تو اسے قید بامشقت دی جائے گی اور جب تک نقصان پورا نہ ہو یہ جیل میں رہے گا اور بم دھماکوں کے بعد میڈیا کو کیسے کوریج کرنی چاہیے‘ حکومت کو یہ فارمولہ بھی بنانا چاہیے‘ ہمارا میڈیا بھی عوام کے اندر اضطراب بڑھا رہا ہے‘ لوگ ٹیلی ویژن دیکھ کر بھی فرسٹریٹ ہو رہے ہیں‘ ہمیں یہ فارمولہ بھی بنانا ہو گا۔
آپ یقین کریں 15 مارچ کو ہلکی سول نافرمانی تھی‘ ہم نے اگر اب فیصلہ نہ کیا تو یہ ہلکی سول نافرمانی مکمل سول نافرمانی میں تبدیل ہو جائے گی اور پھر لوگوں کو فیروز پور روڈ سے رائے ونڈ جاتے دیر نہیں لگے گی‘یہ لوگ جاتی عمرہ پہنچ جائیں گے اور یہ اگر وہاں پہنچ گئے‘ تو آپ کیا کریں گے؟ آپ سوچئے اور فیصلہ کیجئے کیونکہ فیصلے کی گھڑی آ چکی ہے۔